بنگلورو۔15/ستمبر(ایس او نیوز) ملک بھر میں گؤ کشی کو روکنے کے نام پر تشدد کی لہر پھیلانے والے گؤ رکشک اب شہر گلستان بنگلور تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ کل شہر کے مضافات جگنی مین روڈ پر نام نہاد گؤ رکشکوں نے ایک فارم ہاؤز میں شہر کے ایک خاندان کی طرف سے قربانی کیلئے لائے گئے جانوروں کو نہ صرف ضبط کرنے کی مبینہ کوشش کی،بلکہ قربانی میں مصروف خاندان والوں پر حملے بھی کئے اور آسانی سے راہ فرار اختیار کرلی۔ان لوگوں نے فارم ہاؤز میں موجود خاندان پر الزام لگایا کہ وہ قربانی کیلئے گؤ کشی کررہے تھے، جبکہ حملہ کا شکار لوگوں نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ گائے ذبح نہیں کررہے تھے،بلکہ بیل کی قربانی دی جارہی تھی۔ اس سلسلے میں قربانی انجام دینے کیلئے فارم ہاؤز جانے والوں نے گؤ رکشکوں کی اس مبینہ زیادتی کے سلسلے میں پولیس تھانہ میں شکایت درج کرانے کی کوشش کی تو پولیس حکام نے ان کے خلا ف ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا۔
بتایاجاتاہے کہ یہ واقعہ کل دوبجے کے قریب پیش آیا۔جب خاندان والے فارم ہاؤز میں قربانی کیلئے جمع ہوئے تھے، تقریباً 300غنڈوں کی ٹولی زبردستی فارم ہاؤز میں گھس آئی اور وہاں موجود لوگوں جن میں خواتین بھی شامل تھیں ان پر حملہ کردیا۔ فارم میں موجود ایک نوجوان ان حملہ آوروں کے مناظر اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کرنے کی کوشش کررہاتھا تو ان لوگوں نے اس کا موبائل فون چھین لیا اور اسے مار کر فرار ہوگئے۔ بنرگٹہ پولیس تھانہ میں جب اس سلسلے میں شکایت درج کرنے کیلئے فارم ہاؤز میں موجود لوگ پہنچے تو غنڈے وہاں بھی پہنچ گئے، اور پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کرلیا۔پولیس کی طرف سے بھی اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے میں لاپرواہی کا مظاہرہ کیاگیا۔
اس خاندان کے سب سے بڑے فرزند وسیم احمد نے بتایاکہ جس وقت حملہ آوروں نے دھاوا بول کر انہیں فون کیاتو وہ باہر گئے ہوئے تھے۔ جب وہ فارم ہاؤز پہنچے تو ذبح شدہ بیل کو حملہ آور دفن کررہے تھے، پولیس بھی وہاں پہنچی لیکن حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی تھی، ان کے والدین اور دو بھائیوں کو تقریباً دو گھنٹوں تک گھر میں مقفل رکھا گیا، بعد میں انہیں بیگور پولیس تھانہ لے جایا گیا اور رات گیارہ بجے تک وہیں رکھا گیا، یہاں تک کہ ان سے فون بھی چھین لئے گئے تھے، اگر کسی کو ذبیحہ پر اعتراض تھا تو انہیں پولیس کو طلب کرنا چاہئے تھا، فارم ہاؤز میں گھسنے کی کسی کو اجازت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے بھی حملہ آور گؤ رکشکوں کے خلاف کارروائی نہیں کی اور ان کے ساتھ ہی مصالحت کے موقف میں تھی۔
اس دوران پولیس نے بتایاکہ اس نے فارم ہاؤز کے مالکان کا بیان لیا ہے، اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ جانور ذبح کرنے کیلئے اس کے پاس سرکاری اجازت تھی یا نہیں۔ بنگلور رورل کے ایس پی امیت سنگھ نے بتایا کہ جانور کے گوشت کے نمونے برآمد کئے گئے ہیں، تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ جانور کی عمر کیاتھی۔ انسداد گؤ کشی قوانین کے تحت اس خاندان کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا ہے، انہوں نے بتایاکہ اس خاندان کو آج شام ضمانت پر رہا کردیا گیاہے، پولیس یہ بھی جانچ کرے گی کہ ان کے فارم ہاؤز میں کوئی غنڈہ گردی ہوئی ہے یا نہیں۔ حکام نے بتایاکہ انسداد گؤ کشی قانون 1964 کے تحت گائے، بچھڑے، یا مادہ بھینس کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہے۔ اس کے علاوہ بیل کے ذبیحہ کی اجازت بھی اسی وقت دی جاسکتی ہے،جبکہ اس کی عمر بارہ سال سے زیادہ کی ہو۔
پورے واقعے پر عوام ریاستی حکومت سے سوال کررہے ہیں کہ آیا ریاست میں کانگریس کی ہی حکومت ہے ؟ یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ پولس غنڈوں کی باتوں میں آکر شکایت درج کرتی ہے، مگر غنڈوں کے خلاف کی گئی شکایت پر کاروائی نہیں کرتی تو کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ پولس بھی گئورکھشکوں سے ملی ہوئی ہے ؟